برسوں پہلے ہی ایک بابا جی نے اشفاق احمد مرحوم کو کیا بہت بڑی وارننگ دی تھی ؟ – The Pakistan Time

برسوں پہلے ہی ایک بابا جی نے اشفاق احمد مرحوم کو کیا بہت بڑی وارننگ دی تھی ؟

لاہور نامور مضمون نگار شہر یار اصغر مرزا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں اور ۔۔۔۔۔ادیب اور دانشور اشفاق احمد نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام زاویہ میں بھی واقع سنایا تھا جو میں قارئین سے شیئر کروں گا۔ایک مرتبہ مجھے کسی شادی پر اسلام آباد جانے کا بھی اتفاق ہوا، اور اسی شادی میں مجھے ایک پیغام بھی ملا

کہ ایک روحانی با با جی آپ سے ہی ملناچاہتے ہیں۔چنانچہ میں ان کے پاس گیا۔ اور انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ تم آگئے ہو تو سنو ” تم اپنے پروگرام میں بڑے قصے کہانیاں سناتے رہتے ہو، اور میں تمہیں WARN کرتا ہوں، میں نے تمہیں وارننگ دینے کیلئے بلا یا ہے۔ اور تم لوگ بہت لا پرواہ ہو چکے ہو اور تم نے توجہ دینا بھی
چھوڑدی ہے اور ۔تم ایک خطرناک اور خوفناک منزل کی طرف رجوع ہی کررہے ہو اور ۔ دیکھو! میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں، یہ پاکستان ایک معجزہ تھا اور جتنا بڑا قوم ثمود کیلئے اونٹنی کے پیدا ہونے کا تھا۔اگر تم پاکستان کو حضرت صالح علیہ سلام کی اونٹنی سمجھنا چھوڑ دو گے، نہ تم رہو گے، نہ تمہاری یادیں بھی رہیں گی اور
۔بابا جی میرےگلے میں موجو د صافے کو پکڑ کر ہی کھینچ رہے تھے۔آپ اندازہ کر سکتے ہیں اور میری کیا کیفیت ہو گی، اور پسینے چھوٹ گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ تم نے حضرت صالح کی اونٹنی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اٹھاون برس گزر گئے، تم نے اس کے ساتھ وہی رویہ اختیا ر کیا ہو اہے جو قوم ثمود نے بھی کیا تھا اندر کے رہنے والوں اور باہر کے رہنے والے، دونوں کو میں تنبیہ کررہا ہوں، تم سنبھل جاؤ ورنہ وقت بہت کم ہے۔ اور

اس اونٹنی سے جو تم نے بھی چھینا ہے اور جو کچھ لوٹا ہے، اندر کے رہنے والوں اس کو لوٹا دو اور اس کو واپس کردو۔اور با ہر کے رہنے والو، ساؤتھ ایشیا کے سارے ہی ملکو ں کو وارننگ دیتا ہوں اور اس کو کوئی عام چھوٹا سا، معمولی سا جغرافیا ئی ملک سمجھنا چھوڑ دو۔ یہ حضرت صالح علیہ سلا م کی اونٹنی ہی ہے اور ۔ہم سب پر اس کا ادب اور احترام واجب ہے۔ اور
اسکے ساتھ ہونے والی کوتاہیوں کی معافی بھی مانگتے رہو۔ اشفاق احمد صاحب کہتے ہیں اور میں ان کی کسی بات کا کوئی جواب نہ ہی دے سکا، اور خوف ذدہ ہو کر کھڑا رہا،پھر انکو سلام کرکے سرجھکا ئے واپس چلا آیا اور دیر تک پسینہ صاف کرتا رہا۔پاکستان بلا شبہ حضرت صالح علیہ سلام کی اونٹنی ہے اور ہماری قوم کا ہی
حشر بھی قوم ثمود سے مختلف بلکل نہیں ہوگا۔ اور میں نے جب زاویہ میں یہ واقع پڑھا تو میرے بھی رونگٹے کھڑے ہوگئے پاکستا ن کو حضرت صالح کی اونٹنی ہی سمجھتے ہوئے ہر پاکستانی کو وطنِ عزیز سے ہی پیار کرنا چاہیے اور ملک بھر میں جگہ جگہ ہی اس کی تشہیر کرنی چاہیے۔ بچوں کے کور س میں شامل کرنا چاہیے اور
تا کہ بیس کروڑ پاکستانی عوام میں سے ہی ایک بھی شخص یہ نہ کہہ سکے اور تجھے تو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ پاکستا ن کا قیا م ایک بہت بڑا معجزہ ہے اور یہ حضر ت صالح علیہ سلام کی اونٹنی کے ہی مترادف ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *