بہت ہی زیادہ ناقابل یقین مگر بلکل ہی سچے تاریخی واقعات – The Pakistan Time

بہت ہی زیادہ ناقابل یقین مگر بلکل ہی سچے تاریخی واقعات

بہت ہی زیادہ ناقابل یقین مگر بلکل ہی سچے تاریخی واقعات

لاہور نامور کالم نگار فضل حسین اعوان اپنے ایک اہم کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔ عمررواں فرید پراچہ کی نئی شائع ہونے والی معرکۃ الآرا کتاب ہے۔ اور اسکے مطالعہ سے آپ پاکستان کی تاریخ سیاست کلچر اور بہت سے غلام گردشوں تک میں بُنی اور ادھیڑی جانیوالی سازشوں سے بھی آگاہ ہوسکتے ہیں۔ اور پراچہ صاحب نے کتاب میں

جنرل رانی سے ملاقاتوں اور باتوں کا تذکرہ “ اور جنرل رانی سے ملاقاتیں”کے عنوان کے تحت کیا ہے اور ۔سابق آئی جی پنجاب سردار محمد چودھری کی کتاب جہانِ حیرت میں جنرل یحییٰ خان کی رنگین داستانوں میں جنرل رانی کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے اور ۔ایسی بہت سے داستانوں کے سردار محمد چودھری ایوانِ صدر کے حفاظتی انچارج ہونے کی بنا پر گواہ تھے اور بعد ازاں اقلیم اختر عرف جنرل رانی سے تحقیقات پر بھی انہیں مامور کیا گیا تھا۔فرید پراچہ کی جنرل رانی سے کوٹ لکھپت قید خانے میں ملاقاتیں اُس دور کے سپرنٹنڈنٹ حمید اصغر کے توسط سے ہوا کرتی تھیں۔فرید پراچہ لکھتے ہیں۔’’14 مرتبہ اس قید خانے میں گیا ہوں دورِ طالب علمی میں

، اور کوٹ لکھپت قید خانہ اچھی جگہ لگتی تھی۔ اور یہ چونکہ نئی بنی تھی۔ اس لئے کھلا کھلا ماحول، صاف ستھری پھولوں کی کیاریاں، درخت وغیرہ اور سب سے بڑھ کر حمید اصغر سپرنٹنڈنٹ ، ۔ شاید کا ڈسپلن سخت گیری مشہور تھی لیکن اصلاً وہ نرم دل بھی تھے اور قیدیوں کے حق میں کئی لحاظ سے بہتر بھی ہم سیاسی قیدی تھے پھر یونیورسٹیوں کے طالب علم اس لئے ان کا ہمارے ساتھ رویہ دوستانہ اور بے تکلفانہ تھا۔ اور عموماً ہر روز گیارہ بجے جب وہ اپنے روزمرہ کے کاموں سے فارغ ہوتے تو ہمیں (مجھے عبدالشکور مسعود کھوکھر وغیرہ) اپنے دفتر بلا لیتے ۔ ان کے گھر سے بنی ہوئی چائے بھی پہنچ جاتی۔ اب دنیا بھر کے موضوعات تھے بالخصوص حالات حاضرہ بھٹو شاہی کے آمرانہ اقدامات ، اور کبھی دینی موضوعات اور کبھی یحییٰ خان کے رنگین قصے۔

محفل میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے وہ زنانہ وارڈ سے جنرل رانی یعنی اقلیم اختر رانی کو ہی بلا لیتے۔ وہ قید میں بھی بن ٹھن کر رہتی تھیں۔ اور کلف لگے کڑھائی والے کرتے، میک اپ اور خوشبوئوں کے ہلے۔شاید حمید اصغر ہماری اور جنرل رانی کی گفتگو سے کوئی راز بھی نکلوانا چاہتے تھے۔ شاید ہماری اس گفتگو کی ریکارڈنگ بھی ہوتی ہو…اور شاید کچھ بھی نہ ہو۔ اور لیکن ہمیں بھی جنرل رانی سے بہت کچھ دریافت بھی کرنا تھا۔ یحییٰ خان کی رنگین مزاجی ، محفل نائو و نوش، سانحہ مشرقی پاکستان میں یحییٰ کا کردار وغیرہ۔ اور یہ دلچسپ گفتگو رہتی۔ ہم نے پوچھا .
آپ کے یحییٰ خان سے تعلقات کیونکر بنے۔ اس نے بتایا کہ چھمب جوڑیاں سیکٹر میں لڑائی کے دوران جب یحییٰ خان زخمی ہوئے تو یہ آرام کے لیے کم و بیش ایک ماہ ہمارے گھر رہے۔ اور یہ بھی اس وقت میجر تھے۔ یحییٰ خان کی میرے ماموں (وہ بھی یحییٰ کے ہم رینک اور دوست تھے) سے بے تکلفی تھی۔ گجرات میں ہمارے گھر میں یحییٰ خان کے اس قیام کے دوران میری یحییٰ خان سے دوستی بن گئی اور یہ تعلق صرف دوستی کا تھا۔ اس سے بڑھ کر نہ تھا۔ یحییٰ خان نے اس دوستی کا ہمیشہ احترام کیا لیکن خلقت شہر کو کہنے کو کئی فسانے مل گئے۔ اور اس وقت جنرل رانی کی عمر چالیس

سال سے متجاوز تھی اس نے بتایا اس کے والد راجہ مظفر حسین ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر تھے اور اس کے خاوند غلام رضا پولیس سروس میں ہیں۔ اور پہلے ہی ایس ایچ او اور اب ڈی ایس پی ہیں
اپنے خاوند کی سروس کی وجہ سے (اور شاید خاوند پر بھی محیط و مسلط ہونے کی وجہ سے) تھانیدارنی بھی کہلاتی رہی ہیں اور اب جنرل یحییٰ سے بہت بڑے تعلق کی وجہ سے جنرل رانی کہلاتی ہیں۔ وہ بتانے لگیں کہ یحییٰ سے میری دوستی کی وجہ سے لوگ اپنے کاموں کے سلسلے میں مجھ سے رابطہ کرتے ہیں اور میری کوشش سے لوگوں کے کام بھی ہو جاتے ہیں ۔ اور جنرل رانی پورے دلائل اور واقعات و شواہد کی بناء پر بھٹو کو سانحہ مشرقی پاکستان کا سب سے زیادہ بڑا کردار سمجھتی تھی۔ اسکے مطابق یحییٰ اور مجیب میں معاہدہ طے پا گیا تھا کہ یحییٰ آئندہ صدر ہو گا اور مجیب الرحمن وزیراعظم۔ بھٹو نے یحییٰ کے لیے لاڑکانہ اپنے ہاں زبردست دعوت کا اہتمام کیا۔ رانی بھی اس سفر میں ہمراہ تھی۔ یہاں بھٹو نے رقص و سرود اور نائو و نوش کا نہایت اعلیٰ انتظام کر رکھا تھا۔ کئی خوبصورت چہرے بلائے گئے تھے۔ گانے کا بہترین انتظام تھا ،

اور وہ رنگین رات ہی مشرقی پاکستان کا اہم فیصلہ کر رہی تھی۔ اور بھٹو نے یحییٰ کے ذہن میں بٹھا دیا کہ مجیب اسے زندگی سے محروم کرا د ے گا۔ اس لیے ا س سے فاصلہ رکھیں‘ اسی صورت یحییٰ بلاشرکت غیرے اصل اقتدار اور اختیارات کا مالک رہ سکتا ہےجنرل رانی نے یہ بھی بتایا میرے پاس بھٹو اور یحییٰ کی ملاقاتوں کی ایسی ریکارڈنگ ہے جو تاریخ کے کٹہرے میں ثابت کر سکتی ہے اور سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار نہ مجیب ہے نہ یحییٰ ۔
وہ صرف بھٹو ہے۔ اور اگرچہ ہم اس سے بحث کرتے رہے کہ بھٹو سازش کا جو بھی جال بچھائے تب بھی یحییٰ اور مجیب بری الذمہ کیسے ہو سکتے ہیں اور لیکن وہ یحییٰ خان کی مے نوشی اور رنگین مزاجی کی تائید کرنے کے باوجود بھی اسے سادہ دل معصوم اور بھولا بھالا ہی سمجھتی تھی۔ اس نے کہا کہ میرے پاس جو کیسٹ اور تصاویر ہیں بھٹو نے ان کے لیے ہی مجھے قید میں ڈالا گیا ہے۔ ہم نے اسے قائل کر لیا اور وہ یہ کیسٹ ہمارے حوالہ کرے۔ ہم جامعہ پنجاب میں ایک بڑی کانفرنس منعقد کریں گے۔ اور جس میں اسے ہی بلائیں گے اور اس میں وہ بے دھڑک سب انکشافات کر دے۔ طلبہ اس کا مکمل تحفظ کریں گے۔ اس نے کہا کہ پہلے مجھے قید سے نکلوائیں پھر میں آپ سے مکمل تعاون کا وعدہ بھی کرتی ہوں۔ ہم نے کہا کہ ہم اس کے لیے قانونی معاونت کا بندوبست کریں گے۔ اس نے ہمیں اپنی بیٹی کے

فون نمبر بھی دئیے کہ آپ لوگ رہا ہونے کے بعد اس سے رابطہ کریں۔ اور ہماری رہائی کے بعد بھی جنرل رانی قید میں رہی تاہم شاید مصطفی کھر یا کسی اور کے ذریعہ اس کے بھٹو صاحب سے کچھ معاملات طے ہو گئے جس کے ساتھ ہی اس کی رہائی عمل میں آئی۔ جہاں پراچہ صاحب کی بیان کردہ کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ اور مگر جنرل رانی سے ہی وابستہ داستانوں کا تسلسل جاری ہے۔ کتاب ’’میرے مشہور مقدمے‘‘ میں ایس ایم ظفر صاحب نے لکھا ہے اور انہوں نے جنرل یحییٰ خان کا بھی مقدمہ
لڑا اور جنرل رانی کا بھی بہت بڑا مقدمہ لڑا جن دنوں جنرل رانی گجرات میں اپنے گھر پر نظربند تھیں تو انہوں نے اپنی نظربندی کو عدالت میں چیلنج کرنے کیلئے مجھ سے رابطہ کیا۔ وہ قومی اسمبلی میں خواتین کی نشست پر الیکشن لڑنا بھی چاہتی تھیں اور انکی بیٹی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنا چاہتی تھیں۔ اور میں نے انہیں پریس کانفرنس سے روک دیا اور نظربندی کے خلاف حکومت کو نوٹس بھیج دیا۔ کچھ دنوں بعد جنرل رانی کو رہائی مل گئی۔جنرل رانی لاہور آئیں تو شکریہ ادا کیا۔ اس دوران میری ٹویوٹا کار لاہور ایئرپورٹ سے چوری ہو گئی۔ اس ملاقات کے کچھ دنوں بعد تھانہ سول لائنز لاہور نے اطلاع دی اور چوری شدہ کار برآمد ہو گئی ہے۔اطلاع دینے والے پولیس افسر سے پوچھا میری کار آپ کو کہاں سے ملی؟ انہوں نے جواب یہ دیا یہ کار جنرل رانی کے بیٹے کے پاس تھی۔ ایس ایم ظفر صاحب نے اپنی کتاب کے اس باب کا نام ’’جنرل رانی‘‘
رکھا اور اس باب کا اختتام ان الفاظ پرسوالیہ نشان چھوڑتے ہوئے کیا اور جنرل رانی جنرل یحییٰ تک کیسے پہنچی اور میری کار جنرل رانی کے بیٹے تک کیسے پہنچی؟ فرید پراچہ صاحب نے یہ بتا دیا کہ جنرل یحییٰ تک جنرل رانی کیسے پہنچی۔ اور گویا ایس ایم ظفر صاحب کو اس سوال کا جواب بھی مل گیا۔ زیرِ نظر تحریر کے دوران ایس ایم ظفر صاحب سے فون پر بات کی ان سے پوچھا کیا اب تک انہیں نہیں پتہ چلا کہ جنرل رانی کے بیٹے

تک ان کی کار کیسے پہنچی اگر پتہ یہ چل گیا ہے تو بتائیے؟ اس پر انہوں نے وٹس اَپ پر یہ تحریر بھیجی ۔ ’’جو بات میں نے اپنی کتاب اور ’’میرے مشہور مقدمے‘‘ میں ’جنرل رانی‘ کے عنوان کے تحت درج کی اس میں یہ ذکر تو ہے کہ میں اپنی ہی اس گاڑی میں جو ائیر پورٹ سے چوری ہو چکی تھی اور بیٹھ کر اپنے دفتر سے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل تک جنرل رانی کے صاحبزادے محسن رضا کے ساتھ گیا تھا اور لیکن یہ بات نہیں لکھی کہ میں اپنی کار کو پہچان نہ سکا کیونکہ اس کا رنگ تبدیل شدہ تھا۔ یہ تو پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ کار کا نمبر میری کار ہی کا ہے اور انہوں نے محسن رضا سے برآمد کی ہے۔ میں یہ نہیں جانتا ائیر پورٹ سے کس نے میری کار چرائی اور یہ محسن رضا مجرم تھا یا اس نے کسی سے خریدی۔ البتہ جب کار مجھے واپس کی گئی تو محسن رضا پولیس کی حراست میں نہ تھا

باقی وَاﷲ اَعلَم بِالصَّواب اور ۔۔فرید پراچہ صاحب نے جنرل رانی کو ایک پریس کانفرنس کرنے پر قائل کیا تھا جس میں اس نے کچھ انکشافات کرنے اور کچھ تصاویر اور کیسٹیں پیش کرنی تھیں۔ ان کا کیا بنا؟ وہ بھی ملاحظہ کیجئے۔ بھٹو دور میں جنرل رانی نے اپنے ڈیرے شارع قائداعظم پر واقع انٹر کانٹی نینٹل کے ایک ’’سوئیٹ‘‘ میں آباد کر رکھے تھے اور ۔ وقت کے حکمران ان کے آستانے پر جبینِ نیاز لے کر حاضر بھی ہوتے اور اپنے ’’شرارتی من‘‘ کی مرادیں پاتے۔ کھر گورنر بنے تو اس قسم کی اطلاعات بھی موصول ہونا شروع ہوئیں
کہ جنرل رانی کی اور ’’جلوہ گاہِ جمال و وصال‘‘ سازشوں کا گڑھ بن رہی ہے ۔پھر یہ ہوا کہ کھر دور میں جنرل رانی مفرور اشتہاری ملزموں کی طرح ہی جابجا چھپتی پھرتی رہی۔ اور اگلے وقت کے مہربانوں کے دروازے در توبہ کی طرح بند ہو چکے تھے۔ نیا ایوانِ اقتدار ان کیلئے شجر ممنوعہ تھا۔ نیا زمانہ تھا، ساز اور راگ بدل چکے تھے۔ جنرل رانی کوزندگی میں پہلی بار اس قسم کے ناخوشگوار حالات کا سامنا کرناپڑا۔ اور وہ اپنے آشناؤں سے رابطہ کرتی، ہر ایک کی منت سماجت کرتی، جائے اماں اور دارالاماں فراہم کرنے کی’’ بنتی ‘‘کرتی اور لیکن نئے دور میں حکمرانوں کے عتاب سے بچنے کیلئے ہمہ نوعی بیورو کریسی کے اسفندیار اور افراسیاب بھی اپنی اس چہیتی سے آنکھیں چرانے لگے۔ اور بھی وہ روایتی طوطے کی طرح صاف آنکھیں پھیر چکے تھے۔کوچہ بہ کوچہ، کو بہ کو اور قریہ بہ قریہ خا ک چھاننے کے بعد اسے یہ معلوم ہوا کہ
پورے پاکستان میں اگر کوئی ایک شخص اسے پناہ دے سکتا ہے تو وہ لاہور کا ایک صحافی ہے۔ ایک رات اْس عظیم صحافی کے گھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ صحافی کی بیگم نے ٹیلی فون کا ریسیور اٹھایا۔ اور دوسری جانب خوفزدہ لہجے میں ایک خاتون موجود تھیں۔ کہنے لگیں:’’ بیگم صاحبہ! مجھے پناہ چاہئے، میں ایک مظلوم خاتون ہوں، مجھے زمانے نے دھتکار بھی دیا ہے، کل تک میری چوکھٹ بڑی بڑی نامور پیشانیوں کی سجدہ گاہ تھی اور آج میں جس بھی دروازے پر جاتی ہوں مجھے کھوٹے سکے کی طرح لوٹا دیا جاتا ہے‘‘ اور نامور صحافی کی بیگم نے
کہا :’’آپ جانتی ہیں اور آپ نے کس کے گھر فون کیا ہے؟‘‘ رانی نے بتایا ’میں نے آپ کے شوہر آغا شورش کاشمیری کی جگرداری اوربہادری کی داستانیں سن رکھی ہیں، مجھے میرے ملنے والوں نے یہ بتایا ہے اور وہ مظلوموں کا ساتھ دینے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے‘۔بیگم صاحبہ نے کہا :’’آغا صاحب اس وقت آرام کر رہے ہیں، وہ جب سو رہے ہوں تو ہم میں سے کوئی بھی یہ جر?ت نہیں پاتا کہ انہیں جگا سکے۔ وہ جب لکھنے میں مصروف ہوں یا آرام کر رہے ہوں تو کسی قسم کی مداخلت اور خلل برداشت نہیں کرتے‘‘۔۔۔ اور ایک دو گھنٹے گزرنے کے بعد فون کی گھنٹی دوبارہ بجی، اور دوسری جانب بولنے والی خاتون نے یہ اعلان کیا کہ میں انتہائی مجبور ہوں اور میرے پاس بجز اس کے کوئی اور چارہ نہیں رہاکہ میں بنفس نفیس آپ کے دولت کدے پر ہی حاضر ہو جاؤں۔
۔۔چند گھنٹے گزرنے کے بعد رات کے پچھلے پہر جنرل رانی آغا شورش کاشمیری کے گھر کے دروازے کے باہر موجود تھیں۔ آغا صاحب کو بامر مجبوری نیند سے بھی جگایا گیا، وہ باہر آئے اور پرسشِ احوال کی۔جنرل رانی نے حکومتی مظالم کی ایک طولانی دستان سنائی اوراس کے بعد پناہ کی طلب گار ہوئی۔ آغا صاحب نے کہا کہ میں تمہیں تادیر اپنے ہاں پناہ نہیں دے سکتا۔ یہ سننا تھا کہ جنرل رانی نے ایک ضخیم البم آغا صاحب کو پیش کی اور کہا کہ’ اس البم میں پاکستان کے سول و ملٹری بیورو کریٹوں، سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کی زندگی کے مخفی گوشے تصویری زبان میں حقیقتِ حال بھی بیان کر رہے ہیں‘ اور ۔آغا صاحب نے جنرل رانی کو اپنے ہاں ایک رات ٹھہرنے کی اجازت بھی دے دی۔ اور یہ رات جنرل رانی نے آغا شورش کاشمیری کے گھر کے عقب میں بھینس کیلئے بنے ایک چھپر کے نیچے گزاری۔۔۔ اور پنج تارا ہوٹلوں، صدارتی محلوں اور وزارتی ایوانوں کے مخملیں اور گداز بستروں پر راتیں بسر کرنے کی عادی خاتون کیلئے یہ رات یقیناً قیامت کی ہی رات تھی۔ اور صبح ہوتے ہی وہ چل دی۔ آغا صاحب نے اس کے دیئے ہوئے’’تحفہ‘‘ کو اس کی آنکھوں کے سامنے نذرِ آتش کر دیا۔ اور یہ کہا ’’اقتدار سے محروم ہونے والے لوگوں کے عیب اچھالنا بزدلوں کا کام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *