قائمہ کمیٹی کا اجلاس!!! شوکت ترین اور احسن اقبال میں شدید تلخ کلامی، صورتحال بگڑ گئی

قائمہ کمیٹی کا اجلاس!!! شوکت ترین اور احسن اقبال میں شدید تلخ کلامی، صورتحال بگڑ گئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین اور مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال میں تلخ کلامی ہوگئی ۔ وزیر خزانہ نے کہا آپ کے سامنے میں ایک سینیٹر بیٹھا ہوں اگر سینیٹ کو آپ پارلیمان کا حصہ نہیں سمجھتے تو پھر

اسے بند کر دیں۔نیونیوز کے مطابق اجلاس میں وزیر خزانہ کی باتوں کا جواب دیتے احسن اقبال نے کہا وزیر خزانہ پارلیمنٹ کی کمیٹی کے سامنے موجود ہیں ان کو لہجہ درست رکھنا چاہیئے ۔ ہم بچے نہیں ہیں جو ہمیں اس لہجے میں لیکچر دیا جا رہا ہے۔اس پر چیئرمین کمیٹی فیض اللہ کموکا بولے کہ احسن اقبال صاحب آپ چیئرمین کی اجازت کے بغیر بات نہیں کر سکتے۔ کسی کو یہ اجازت بھی نہیں کہ وہ کمیٹی میں آ کر ہماری ڈانٹ ڈپٹ کرے۔ اگر کوئی کسی کی یہاں ڈانٹ ڈپٹ کرے گا تو میں اسے باہر نکال دوں گا۔ دوسری جانب شوکت ترین نے کہا کہ دوہزار پندرہ میں دنیا بھر کی کرنسی گراوٹ کا شکار تھی۔

صرف ہم نے اپنی کرنسی کو اس وقت بڑھایا۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف پروگرام کو ملک کے لیے ضروری قراردیدیا ۔ کہتے ہیں اسٹیٹ بینک پر حکومت پاکستان کا کنٹرول برقرار رہے گا ۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ آپ اسٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لیں گے ۔ مارچ میں 50 کروڑ ڈالر کے بدلے بعض سخت شرائط مانی گئیں۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس فیض اللہ کاموکا کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کمیٹی کو اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پر بریفنگ دی ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک پر حکومت پاکستان کا کنٹرول برقرار رہے گا۔ حکومت بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نام نامزد کرے گی۔ بورڈ ارکان کے تقرر کی منظوری کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہوگا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مادر پدر آزاد نہیں ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *