چھوٹی سے دکان سے دنیا بھر میں پھیلنے والا برانڈ”کھاڈی”!!!جانیے کامیابی کی کہانی جو آپ کی بھی ہمت بڑھا دے۔

چھوٹی سے دکان سے دنیا بھر میں پھیلنے والا برانڈ”کھاڈی”!!!جانیے کامیابی کی کہانی جو آپ کی بھی ہمت بڑھا دے۔

لاہور(ویب ڈیسک) کاروبار کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے یہ صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جن کا دماغ اور زبان دونوں چھری کی طرح تیز ہوں جو ہر قسم کے معاملات اور حالات کو بخوبی اپنی صلاحیتوں اور ہنر سے اپنے بس میں کرنا جانتے ہوں وہی لوگ کامیاب کاروبار کرتے ہیں

اور پھر ایسے ہی کامیابیاں سمیٹتے ہیں لیکن کئی مرتبہ کاروبار میں رسک لینے پڑتے ہیں۔سب سے بڑا رسک کسی بھی کام کو شروع کرتے ہوئے لینا ہے جس میں بہت سے لوگ ڈگمگا جاتے ہیں لیکن جب خدا آپ کا ساتھ دے اور آپ کو اپنی محنت پر یقین ہو تو کاروبار میں کامیابی سے آپ کو کوئی بھی نہیں روک سکتا۔بالکل اسی طرح کی کہانی پاکستان کے سب سے بڑے کپڑوں کے برانڈ کھاڈی کے مالک شمعون سلطان کی ہے جنہوں نے اپنی محنت اور حقیقی آئیڈیاز کی بنیاد پر ایک چھوٹی سے دکان سے پاکستان کا سب سے بڑا برانڈ اور بین الاقوامی برانڈ بنا دیا۔ آج کھاڈی کی مقبولیت حد سے زیادہ ہے جس کی وجہ محنت، لگن اور مضبوط حوصلہ ہے۔ کپڑوں کا مشہور برانڈ کھاڈی جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ہر کوئی کھاڈی کے کپڑوں کی خوبصورتی اور اس کے زبردست گلیمرز اسٹائل کی وجہ سے اس کو پہننا پسند کرتا ہے کیونکہ کپڑے کی کوالٹی میں کسی طرح کی کوئی کثر نہیں ہوتی ۔13 دسمبر 1998ء کے دن کراچی کے علاقے زمزمہ میں ایک چھوٹی سی دکان سے بنائی گئی جسے شمعون سلطان نے بنایا اور اپنے طور پر چلایا۔ یہاں آپ کو بتادیں کہ کوئی بھی کام بناء محنت یا بناء پڑھائی کے ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ کام شروع کرنے سے قبل شمعون نے باقاعدہ فیشن ڈیزائننگ میں انڈس ویلی سے ڈگری حاصل کی اور کام کی غرض سے وہ انڈیا اور امریکہ میں بھی گئے۔
جہاں انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ہاتھ کی کڑھائی کے کپڑوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے، بالکل اسی طرح انڈیا جاکر انہوں نے دیکھا کہ وہاں ریٹیل پرائس پر کس طرح بزنس کیا جارہا ہے مذید یہ کہ دوسرے ممالک میں سلے ہوئے سٹچڈ کپڑوں کی مانگ کس قدر زیادہ ہے یہ وہ بنیادی آئیڈیاز ہیں جن کی بناء پر کھاڈی کی بنیاد رکھی گئی۔شمعون نے پاکستان آ کر ہاتھ کی کڑھائی کے کپڑوں کو متعارف کروایا اور شروعاتی طور پر ان کے ڈیزائن مغلیہ سلطنت کے شاہکاروں کی عکاسی کرتے تھے جس کو پاکستانیوں میں بہت پسند کیا گیا۔ جس کے ساتھ ہی انہوں نے ریٹیل پرائس پر کپڑوں کا کاروبار مذید بڑھایا، اس وقت ظاہر ہے کہ مارکیٹ کا دباؤ بھی دیکھنا تھا کیونکہ اس سے قبل سلے ہوئے تیار شدہ کپڑے پاکستان میں زیادہ پسند نہیں کئے جاتے تھے مگر پہلی مرتبہ عوامی طرز پر تیار شدہ کپڑوں کو کھاڈی نے متعارف کروایا جس میں وہ بہت اچھی طرح کامیاب ہوئے اور پھر انہوں نے کراچی کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اپنی برانچز کھولنی شروع کیں۔محنت اور لگن سے آگے بڑھتے ہوئے کھاڈی نے 2007 میں 3 ملین اور پھر 2016 میں 16 ملین کا سب سے بڑا کاروبار کرکے پاکستان کا نمبر ون برانڈ بن گیا۔کراچی میں کھاڈی نے 2015 میں کلفٹن میں سب سے بڑا ویئرہاؤس بنایا اور پھر پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کی آؤٹ لٹس بنائی گئیں۔ آج کھاڈی کی 50 سے زائد برانچز بیرونِ ممالک میں بھی ہیں۔ نہ صرف ملکی ماڈلز بلکہ غیرملکی ماڈلز بھی کھاڈی کے کپڑوں کو پہنتی اور پسند کرتی ہیں۔جی ہاں! شمعون سلطان کی بیوی سائرہ شمعون بھی اس کام میں اپنے شوہر کے شابہ بشانہ کھڑی ہیں وہ خود بھی ایک فیشن ڈیزائنر ہیں اور اس اتنے بڑے بزنس کو کھڑا کرنے میں سائرہ کی بھی برابر کی محنت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *