’’حضرت محمد ﷺکی شان میں گستاخی کے معاملہ۔۔‘‘ وزیراعظم کا مغربی ممالک کیساتھ تجارتی بائیکاٹ کا عندیہ 222

’’حضرت محمد ﷺکی شان میں گستاخی کے معاملہ۔۔‘‘ وزیراعظم کا مغربی ممالک کیساتھ تجارتی بائیکاٹ کا عندیہ

ملتان(اے پی پی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا کے سوا ارب مسلمانوں کو نبی ﷺکی شان میں آزادئ اظہار کے نام پر ہونے والی گستاخی سے تکلیف پہنچتی ہے،تمام مسلمان ممالک کو ساتھ ملا کر مغرب پر یہ باور کرائیں گے اور پھر بھی وہ باز نہ آئے تو ان کا تجارتی بائیکاٹ کرسکتے ہیں،پھر اس کا اثر بھی ہوگا،جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی شروعات ہوگئی ہے ،
جنوبی پنجاب صوبہ ضرور بنے گا اور اس کے لئے آئینی ترمیم لائیں گے،پنجاب کےلوگ عثمان بزدار کی پانچ سالہ کارکردگی کو یاد رکھیں گے۔گزشتہ روز جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ اورملتان کے لئے30ارب روپے کے

خصوصی ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیر اعلی عثمان بزدار،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اورعامر ڈوگر نے بھی خطاب کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ میں 15سال سے جنوبی پنجاب میں سفر کررہا ہوں،پارٹی کی تشکیل اور مہم کے دوران مجھے بارہا ان علاقوں میں آناپڑا اور میں نے یہاں کی محرومیوں کوقریب سے دیکھا۔وزیر اعظم نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب کے لئے جب عثمان بزدار کا انتخاب کیا تو اس میں سوچ یہ تھی کہ وہ عوام میں ہی رہیں گے،ان پر تنقید کرنے والے ان کے اڑھائی سالہ دور کا بالی ووڈ کے اداکار سابق وزیراعلی کے ڈھائی سالہ دور سے موازنہ کرلیں۔وہ اپنی ذاتی تشہیر پر اربوں روپے سرکاری خزانے سےصرف کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس سیاست میں آنے سے پہلے سب کچھ تھا،مجھے ساری دنیا میں شہرت حاصل تھی،میں کوئی کام نہ کرکے بھی اپنی زندگی آرام سے گزار سکتا تھا،میں سیاست میں اسلئے آیا کہ ایک چھوٹا اشرافیہ گروپ عوام کا خون چوس رہا تھا،انکے لئے ایک قانون اور دوسروں کے لئے الگ قانون تھا،وہ چوری اور کرپشن کرکے ڈیل کرلیتے تھے،لندن کے مہنگے ترین علاقے جہاں وہاں کے وزیر جائیداد نہیں بنا سکتے تھے وہاں ان کی

جائیدادیں تھیں،یہ یہاں سے پیسہ چوری کرکے لے گئے،انہیں کوئی نہیں پکڑتا تھا،ان کے لئے انگریزی نظام تعلیم اور طبقاتی تقسیم تھی غریب کے لئے ایک لکیر کھینچ دی گئی وہ جتنا محنت کرتا اس سے اوپر نہیں جاسکتا تھا،جن علاقوں سے حکمرانوں کا تعلق تھا وہ زیادہ ترقی کرتے اور دور دراز کے علاقے پسماندہ رہتےاسی لئے وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے وقت سوچ یہ تھی کہ ایسا شخص ہون جو میری سوچ پر عمل کرے، جس کے دل میں غریبوں کا دردہو اوران کی بہتری کے لئے سوچے،یہ نہ ہو کہ یہاں سے پیسے بٹور کر باہر جاکر جائیدادیں بنائے،ایسا فرد ہو جو پاکستان میں ہی رہے جس کا اوڑھنا بچھونا پاکستان ہو،عثمان بزدار تب ہماری جماعت میں بھی نہیں تھا ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر ان کا انتخاب کیا۔پانچ سال بعد اس کے موازنہ سے معلوم ہوجائے گا کہ انہوں نے پسے
ہوئے طبقہ کو اوپر اٹھایا،اس طبقہ کو اوپر اٹھانے کے لئے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں پنجاب کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ داتا دربار کے باہر فٹ پاتھ پر سونے والوں کے لئے پناہ گاہ کی تعمیر کا ہدف وزیر اعلی کو دیا تو انہوں نے چند دنوں میں یہ کام کردکھایا،پنجاب میں ہیلتھ کارڈ کا اجراء کیا،امیر ترین ممالک میں بھی یونیورسل ہیلتھ کارڈکوریج نہیں ہے،میرے اپنے لوگ کہتے تھے کہ پیسہ نہیں تو یہ کیسے ہوگالیکن میرا ایمان ہے کہ غریب پرور سوچ ہو تو پیسہ آہی جاتا ہے،میں نے غریب کو علاج کی مشکلات دیکھ کر شوکت خانم ہسپتال بنایا،پنجاب میں اس سال کے آخر تک ہر کسی کے پاس ہیلتھ کارڈ ہوگا،پنجاب میں کسان کارڈ کا اجراء سب سے پہلے کیا گیا،

اس سے کسان کو براہ راست سبسڈی مل سکے گی،جب ہم اپنے 97 فیصد چھوٹے کاشتکاروں کی مدد کریں گے تواس سے خوشحالی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ کہا جاتا رہا کہ نیا خیبر پختونخوا کدھر ہے،اس صوبے نے کسی جماعت کو دوبارہ مینڈیٹ نہیں دیا لیکن ہماری کارکردگی پر انہوں نے دوتہائی اکثریت سے دوبارہ کامیاب کیا،یو اینڈی پی رپورٹ میں قراردیا گیا کہ خیبرپختونخوا صوبہ غربت میں
کمی،انسانی وسائل پر خرچ کرنے اورامیر اور غریب میں فرق کے حوالے سے دوسرے صوبوں سے آگے ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پنجاب کے لوگ پانچ سال بعد وزیر اعلی عثمان بزڈار کی کاکردگی یادرکھیں گے، عثمان بزدار جس علاقے سے تعلق رکھتا ہے وہ سب سے پسماندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ایک تاریخی قدم ہے،ملتان کے لئے وزیر اعلی پنجاب نے جو پیکیج
دیاوہ خوش آئند ہے،ماضی میں حکمران اپنے پیسے باہر اور رائے ونڈ کی تعمیر وترقی پر سرکاری وسائل خرچ کرتے تھے۔ہم پسماندہ علاقوں کی ترقی کے اقدامات اٹھائیں گے۔جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا افتتاح اس سلسلے

کی ایک اہم کڑی ہے،بہاولپور سیکرٹریٹ کا بھی جلد افتتاح کریں گے،جنوبی پنجاب کی آبادی 33 فیصد ہے اوریہاں کا بجٹ 17 فیصد تھاتاہم پچھلے سات سال کے دوران اس علاقے کے لئے
مختص کےکئے گئے 260ارب روپے بھی دوسرے علاقوں میں خرچ کردیئے گئے۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ 33فیصد آبادی کو اس کے مطابق وسائل ملیں گے اوریہاں کے لوگوں کو آبادی کے مطابق ملازمتوں میں کوٹہ بھی دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ سیکرٹریٹ ایک آ غاز ہے اور اب الگ صوبہ بھی بنے گا، یہ شروعات ہے جنوبی پنجاب صوبہ بنے گا اور اس کے آئینی ترمیم لائی جائے گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ فرانس میں نبی ﷺکی شان میں گستاخی کی گئی ،ایک جماعت نے آکر حکومت سے بزور طاقت فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کا کہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو بھی نبی ﷺسے محبت کرتا ہے وہ ان کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔اس کے بغیر اس کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین روکنے کے دوطریقے ہیں،
ایک راستہ وہ ہے جو کالعدم تحریک لبیک کا تھا،جس میں اسلام آباد پر ہلہ بولنا اورجلائو گھیرائو شامل تھا،کیا ایسا کرنے سے یہ لوگ رک جائیں گے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ اس کو اظہار رائے کی آزادی میں رکاوٹ قرار دے کر مزید کھڑے ہوجائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نے مغرب میں 20سال گزارے ،میں ان کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں،تحریک لبیک کی طرح 100 سال بھی لگے رہیں تو

کچھ فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ مقصد ہمارا ایک ہی ہے۔میرا طریقہ کارمختلف ہے۔میں ثابت کروں گا کہ میرا طریقہ کار درست تھا اورو ہ کامیاب بھی ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں تمام مسلمان ریاستوں کے سربراہان سے بات کررہے ہیں۔وزیر خارجہ نے چار مسلمان ریاستوں سے بات کی ہے اور وہ متفق ہیں،اگر ہم سارے مسلمان ممالک کے سربراہان کو ساتھ لے کر مغرب کو
بتائیں کہ آزادئ رائے کے نام پر نبی ﷺکی شان میں گستاخی سے سوا ارب مسلمانوں کو تکلیف نہیں پہنچا سکتے،یہودیوں کے ہولوکاسٹ کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکتا کیوں کہ وہ متحد ہیں،کوئی ایسا کرے تو چار ممالک میں تو اسے جیلوں میں ڈال دیتے ہیں،کیا ہم ان کو نہیں کہہ سکتے کہ اگر نبی ﷺکی شان میں گستاخی کریں گے تو 40 ممالک ان کاتجارتی بائیکاٹ کردیں گے جس سے فرق پڑے گا،انشاءاللہ اپنے پانچ سال مکمل ہونے پر یہ خوشخبری دیں گے،یہی کامیابی کا طریقہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں