ڈی ایچ اے سرکاری املاک کا قبضہ چھوڑے ورنہ بریگیڈیئر صاحب گرفتار ہوں گے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نے تہلکہ خیز حکم جاری کر دیا 266

ڈی ایچ اے سرکاری املاک کا قبضہ چھوڑے ورنہ بریگیڈیئر صاحب گرفتار ہوں گے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نے تہلکہ خیز حکم جاری کر دیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر ڈی ایچ

اے کے قبضہ کیخلاف درخواستوں پر ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے بریگیڈئیر وحید گل ستی ، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو آج ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے حکم دیا

ضلعی انتظامیہ آج ہی لاہور ہائیکورٹ کی 50کنال زمین کی نشاندہی کرکے رپورٹ پیش کر ے ، ہائیکورٹ کی اراضی پر غیر قانو نی طور پر قائم ساری کوٹھیاں گروادوں گا۔ڈی ایچ اے انتظامیہ کو تنبیہ کررہا ہوں کہ محکمہ اوقاف سمیت تمام اراضی کا قبضہ چھوڑ دیں جس کا انتقال ابھی نہیں ہوا، عدالت نے سی سی پی او لاہور کو حکم دیا کہ تمام ایس ایچ اوز کو مراسلہ جاری کرےکہ اگر کوئی ڈی ایچ اے کی جانب سے زمین پر قبضے کے خلاف درخواست دے تو فوری

طور پر پرچہ درج کیا جائے اور بعد میں تفتیش کی جائے۔عدالت نے سی سی پی او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا اگر ان سے ڈرنا ہی ہے تو نوکری چھوڑ دیں،سردار فرحت منظور خان چانڈیو ایڈووکیٹ کی درخواست پر دوران سماعت ایڈمن ڈی ایچ اے کو طلب کیا لیکن وہ سپریم کورٹ میں ہونے کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہوسکے۔درخواست گزار نے کہا کہ اراضی سے متعلق مخالف کا تعلق آرمی سے ہے اور وہاں سے جواب نہیں آتا،چیف جسٹس قاسم خان نے کہا کہ مجھے بطور جج11سال ہوگئے ہیں کسی کی جرات نہیں کہ آج تک مجھے جواب نہ جمع کروائے، مجھے جواب منگوانا آتا ہے اور یہ

صرف دو دن کا کام ہے۔چیف جسٹس نے ڈی ایچ کے وکیل کو ہدایت کی کہ ایڈمن ڈی ایچ اے لاہور ہائیکورٹ کی50 کنال زمین پر قبضہ کرکے تعمیرات کرنے ، اور محکمہ اوقاف کی اراضی پربغیر انتقال قبضے کرنے کی تحریری وضاحت کرےاور قبضہ میں لینے کی تاریخ سے لیکر آج تک کے ذمہ داران کی نشاندہی کرے۔ عدالت نے حکم دیا ڈی ایچ اے کا بریگیڈئیر بغیر سٹار ، بغیرکیپ اور بغیربیلٹ عدالت میں حاضر ہو،عدالت نے عندیہ دیا کہ اگر زمینوں پر ناجائز قبضہ ثابت ہوگیا تو ہتھکڑیاں لگوا کر جیل بھیجوں گا ، کل رجسٹرار کی مدعیت میں ڈی ایچ کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کی 50کنال زمین پر

غیر قانونی قبضے کا پرچہ درج کرنے کا حکم دے رہا ہوں۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کیا تماشہ لگا کر رکھا ہوا ہے، لیز پر لی گئی اراضی الاٹ کرکے تعمیرات کروادیں،رجسٹرار کو کہوں گا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف کو خط لکھ کر بتائیں کہ یہ کیا کر رہے ہیں؟یہ اس ملک کےسب سے بڑے قبضہ گروپ بن گئے ہیں ، !اللہ تعالی نے میرے منہ سے سچ بلوایا ہےیہ سب سے بڑی رسہ گیر بن چکے ہیں۔لوگوں کی جائیدادوں پر قبضے کرتے ہیں ،اتنی اندھیر نگری اتنی جگا گیری مچائی ہوئی ہے، وردی پہننے کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کی جائیدادوں پر آپ غاصب ہو جائیں، یہ تو کوئی طریقہ نہیں کہ سپاہیوں کی چار پانچ گاڑیاں بھریں اور زمینوں پر قبضہ کرنے چلے جائیں۔چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایچ اے کے وکیل سے مخاطب ہوئے

اورکہا کہ آپ لوگ قبضہ گروپ بنے ہوئے ہیں ،لوٹ کر کھا گئے ہیں آپ لوگ اس ملک کو، وردی قوم کی سروس کے لیے ہے بادشاہت کے لیے نہیں ہے، آپ وردی پہن کر بدمعاشی کرتے ہیں اور لوگوں کی زمینوں پر قبضے کرتے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ قانون سب کیلئے برابر ہے میں نے 11سال تک کبھی ڈر کر نوکری نہیں کی ،عزت کیلئے یہاں بیٹھا ہوں، نہیں تو اور بھی بہت سے ذرائع تھے،پسے ہوئے لوگوں کی آواز بنا ہوں، وردی والے جرم کریں تو بھی بچ نہیں سکتے چاہے کوئی بھی ہو۔

عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ملک سے کھلواڑ چھوڑ دیں، چیف جسٹس نے ڈی ایچ اے کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آرمی کے ریٹائرڈ لوگوں کیلئے زیادہ ویلفیئر کیوںہے ؟کیا انہوں نے قوم کی زیادہ خدمت کی ہے ؟ریٹائرڈفوجیوں کیلئے زیادہ سہولتیں اس لئے ہیں کہ یہ اقتدار پر قابض رہے ہیں اوراپنی مرضی کی قانون سازی کرواتے رہے ہیں، وکلاء اور سول ملازمین کیلئے کوئی ویلفیئر نہیں؟ کیا ہم اور آپ سروس

نہیں کرتے کیا ہم ملک و قوم کی خدمت نہیں کرتے ؟آپ عام لوگوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کالونیاں کیوں نہیں بنا کر دیتے؟متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی پر ڈی ایچ اے کے قبضے کیخلاف درخواستوں میں درخواست گذار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 300 کنال سے زائد متروکہ وقف املاک بورڈ کی اراضی 2020سے لیز پر حاصل کی،ڈی ایچ اے نے لیز شدہ اراضی پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں