120

رات ہم دونوں دوست ولیمہ کی تقریب سے آرہے تھے

سردیوں کے دن تھے نوید اور واصف اپنے دوست اُسامہ کے ولیمہ کی تقریب سے واپس آرہے تھے تقریباً رات کے بارہ بجے کا وقت تھا ۔اچانک سڑک کے وسط میں ایک لڑکی نمودار ہوئی جس پر واصف نے پورے زور سے باریک لگائی اور گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گاڑی کی سپیڈ زیادہ نہ تھی جس کیوجہ سے وہ کسی انتہائی نقصان سے بچ گئے البتہ لڑکی گاڑی کے سائیڈ بمپر سے ٹکڑائی ۔ نوید گاڑی سے نکلا اور لڑکی کی طرف دوڑا واصف نے گاڑی بند کی اور نوید کی طرف ہوا نوید نے لڑکی کو دیکھا وہ بلکل ٹھیک تھیلیکن حالت غیر ہوئی پڑی تھی سر پر دوپٹہ اور پاؤں پر جوتی نہیں تھی ۔ پاؤں اور ہاتھوں سے ہلکا سا بلڈ رس رہا تھا پسینے میں شرابور تھی شاید کسی دور سے بھاگی ہوئی آرہی تھی ۔ نوید نے واصف کو پانی لانے کا کہا اور پانی اس لڑکی کے اوپر چھڑکا تاکے اسے ہوش آئے جیسے لڑکی ہوش میں آئی وہ زو رسے چلانے لگی مجھے چھوڑ دو مجھے جانے دو شاید لڑکی صدمے میں مبتلا تھی جس کیوجہ سے وہ ب وک ھ لاہٹ کا شکار تھی ۔

واصف نے تسلی دیتے ہوئے کہا آپ گھبرائیں نہیں ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے نوید نے بھی اسے نرمی سے سمجھانے کی کوشش کی آپ پریشان نہ ہوں آپ محفوظ ہیں ۔لڑکی کے بولنے کے انداز سے پڑھی لکھی فیملی کی معلوم ہورہی تھی ۔ واصف نے گاڑی سے شال نکال کر اسے اوڑھنے کو دی لڑکی نے فوراً شال لی اور بدن چھپایا۔ لڑکی اب کچھ نارمل محسوس کررہی تھی نوید نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہی ہیں اور کہاں جانا اس سوال پر لڑکی رونے لگی نوید نے کہا روئیں نہیں اپنا پتا بتائیں یا کسی اپنے کا پتہ بتائیںتاکہ گھر والوں کو اطلاع دے سکیں لڑکی زارو قطار روئے جارہی تھی اور کسی سوال کا جواب نہیں دے پارہی تھی ۔ واصف نے نوید سے کہا انہیں گھر لے چلتے ہیں وہاں امی ہونگی تو شاید یہ کچھ بتا دے اسی کشمکش میں ایک بج چکا تھا ۔ نوید نے لڑکی کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہا پہلے لڑکی ڈرتے ہوئے انکار کرتی رہی ۔پھر نوید کی تصلی دینے کے بعد اُٹھی اور لنگڑاتی ہوئی گاڑی میں پیچھے جابیٹھی اسے چوٹ بھی لگی تھی ۔

واصف نے گھر کال کرکے ساری صورتحال سے آگاہ کیا جیسے ہی گھر پہنچے توواصف کی والدہ گاڑی کی طرف ہوئی اور اس لڑکی کو گاڑی سے نکالا اسے کمرے میں لے گئے اور پہننے کیلئے کپڑے دیے ۔ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد کھانا کھانے کیلئے دیا وہ تھی کہ روتی ہی جارہی تھی واصف کی والدہ نے بڑے پیار سے دلاسا دیا کہ وہ ہر طرح سے محفوظ ہے فکر کی ضرورت نہیں لڑکی کو ان کی باتوں سے حوصلہ ہوا وہ کھانا کھانے کے بعد ایسے سوئی کہ مدتوں سے جاگی ہو اور ان مدتوں میں ایسے ہی نیند کا انتظار تھا واصف کی والدہ بھی اس کے پاس سوگئی اگلی صبح اسے ناشتہ کروایا اور دریافت کیا بیٹی کون ہو کہاں سے آئی ہو اس نے کہا میں اچھے پڑھے لکھے خاندان سے ہوںمیں بے ایس سی کی طالبہ ہوں میری ملاقات ایک لڑکے سے فیس بک پر ہوئیجو آہستہ آہستہ محبت میں بدل گئی یہی جذبات اس لڑکے کی طرف سے بھی تھے ۔ اس نے شاد ی کیلئے کہا لیکن گھر والے نہیں مانے ۔

میں اس کے کہنے پر گھر چھوڑ آئی اس کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچی تو وہ مجھے اپنے ساتھ ایک کوارٹر میں لے گیا جہاں اس کے مزید دوست بھی تھے وہاں پہنچ کر مجھے اس لڑکے کے گھٹیا اور درن دگ ی سے بھرے جذبات کا علم ہوا جو سن کر میں بلکل ہی بکھر گئی وہاں سے میں بھاگنے میں کامیاب رہی البتہ مجھے گھر واپس جانے کا راستہ معلوم نہیں تھا اسی اثناء میں لڑکا اوراسکے دوست میرے پیچھے آئے میں ج ن گل کے راستے خار دار جھاڑیوں سے بھاگتے ہوئے مین روڈ پر پہنچی جہاں پر آپ کے بیٹے کی گاڑی سے ٹکڑا گئی ۔آنسوؤں کا سمندر اس کی آنکھوں سے چھلک اُٹھا واصف کی والدہ نے اسے سینے سے لگایا اور تسلی دیتے ہوئے کہا بیٹا خدا کا شکر کرو تمہاری ح رمت قائم ہے اپنے کسی عزیز کا نمبر دو تاکہ ان کو تمہاری موجودگی کی اطلاع دیں

Sharing is Caring

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں